Technology
چین کے روبوٹس اور مستقبل کی ملازمتیں: ایک جائزہ
چین میں ہیومنائڈ روبوٹکس کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور روبوٹس مارشل آرٹس جیسی مہارتیں بھی دکھا رہے ہیں۔ تاہم، وہ فی الحال فیکٹریوں میں پیچیدہ کام کرنے اور انسانوں کی جگہ لینے کے قابل نہیں ہیں۔
چین میں ہیومنائڈ روبوٹس کی تیاری اور ان کی صلاحیتوں میں روز بروز حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالیہ عالمی روبوٹ کانفرنس اور دیگر نمائشوں میں چینی کمپنیوں نے ایسے روبوٹس پیش کیے ہیں جو کنگی فو لڑنے، مکسڈ مارشل آرٹس کے جوہر دکھانے اور مکینیکل کتوں کی طرح حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیشرفت بلاشبہ روبوٹکس کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل ہے، جس نے دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
تاہم، تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کی ظاہری چستی اور کرتوت کے باوجود وہ ابھی اتنے ذہین نہیں ہوئے کہ فیکٹریوں کے پیچیدہ اور عملی کام سنبھال سکیں۔ فیکٹری کے ماحول میں انسان کی طرح دیکھ کر فیصلہ کرنا، بظاہر معمولی نظر آنے والے کاموں کو درست طریقے سے انجام دینا اور غیر متوقع صورتحال سے نبرد آزما ہونا روبوٹس کے لیے تحال ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں روبوٹکس کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کے باوجود فیکٹری ورکرز کی ملازمتیں فی الحال خطرے میں نہیں ہیں۔
موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو انڈسٹری میں تین مختلف ٹیکنالوجی راہیں آپس میں مقابلہ کر رہی ہیں، جن میں خصوصی طور پر ماہر ہاتھوں (dexterous-hand) کی تیاری اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ چین کے مینوفیکچررز اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اپنی مصنوعات کو زیادہ لچکدار بنا رہے ہیں۔ اس کے باوجود، حقیقی معنوں میں عام انسان کی جگہ لینے کے لیے ان سسٹمز کو ابھی طویل سائنسی اور تحقیقی سفر طے کرنا ہوگا۔
نیکسورا نیوز اردو کی اس رپورٹ کے مطابق، اگرچہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں مزید انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں، لیکن قریبی مستقبل میں انسان اور روبوٹ کا باہمی تعاون ہی فیکٹریوں اور کارخانوں کا قبلہ درست رکھے گا۔ روبوٹس انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کے معاون کے طور پر ابھر رہے ہیں، جو پیداواری عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔