World
امریکہ میں نوجوانوں کی تنہائی میں اضافہ، تحقیق کے انکشافات
امریکہ میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ہر دس میں سے ایک نوجوان اپنے روزمرہ کے معمولات میں کسی دوسرے فرد کے ساتھ وقت نہیں گزارتا۔ اس بڑھتی ہوئی تنہائی نے ماہرینِ صحت اور سماجی امور کے حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
امریکہ میں کی جانے والی ایک تازہ ترین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں تنہائی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہر دس میں سے ایک نوجوان اپنے ایک عام روزمرہ کے دن میں کسی بھی دوسرے انسان کے ساتھ بالکل وقت نہیں گزارتا۔ یہ صورتحال نہ صرف نوجوانوں کی سماجی زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی کو اس بڑھتی ہوئی تنہائی کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل آلات نے بظاہر دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ لوگ حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے کٹتے جا رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ماہرینِ نفسیات نے زور دیا ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے باہر نکال کر حقیقی سماجی سرگرمیوں کی طرف لایا جائے تاکہ وہ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ بامعنی وقت گزار سکیں۔ بصورت دیگر، اس تنہائی کے معاشرے اور نئی نسل کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن سے نمٹنا آنے والے وقت میں مزید مشکل ہو جائے گا۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے اور ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکیں۔