LIVE
Loading Breaking News...

تبت کے ہلاکت خیز سیلاب اور چین میں سنسرشپ کی کہانی

News Image
تبت میں حالیہ تباہ کن فلیش فلڈنگ کی انتہائی خوفناک فوٹیج کو چین میں عوام کی نظروں سے جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس قدرتی آفت کے متاثرین کے بارے میں بھی تاحال بہت کم مصدقہ معلومات باہر آ سکی ہیں۔
چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں آنے والے حالیہ ہلاکت خیز فلیش فلڈنگ کے واقعات نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے، تاہم اس طوفانی تباہی کی انتہائی ڈرامائی اور حقیقی فوٹیج کو چین کے اندر عوام کی نظروں سے مکمل طور پر پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، قدرتی آفت کی سنگینی کو ظاہر کرنے والی کئی ویڈیوز کو چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مین اسٹریم میڈیا پر شائع یا نشر کرنے سے روکا گیا ہے، تاکہ اس سانحے کے حقیقی پیمانے کو عوام سے چھپایا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات اور دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اس خوفناک سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے اور متعدد اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، متاثرہ علاقوں میں اصل نقصان کی نوعیت اور وہاں موجود متاثرین کی موجودہ حالت زار کے بارے میں انتہائی کم مصدقہ معلومات باہر آ سکی ہیں۔ مقامی سطح پر سخت کنٹرول اور معلومات کے بہاؤ پر عائد پابندیوں کی وجہ سے آزادانہ صحافت کے لیے اس سانحے کے متاثرین تک رسائی حاصل کرنا یا زمینی حقائق کا تخمینہ لگانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ماہرین اور عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اس قسم کے بڑے سانحات کے دوران معلومات کو چھپانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی قدرتی اور انسانی ساختہ آفات کے وقت حکام کی جانب سے سخت سنسرشپ کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے تاکہ عوامی ردعمل کو قابو میں رکھا جا سکے۔ تبت کے حالیہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی رفتار اور متاثرین کی بحالی کے حوالے سے بھی ابہام پایا جاتا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔