LIVE
Loading Breaking News...

نائن البی ہائی جیکرز اور سعودی جاسوس کے روابط کا انکشاف

News Image
نائن البی کے ہائی جیکرز کو مکان کرائے پر دینے والی خاتون نے پہلی بار بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اس انٹرویو میں ہائی جیکرز کے مبینہ سعودی جاسوس کے ساتھ روابط کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
نائن البی کے تاریخی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث دو القاعدہ ارکان کو مکان کرائے پر دینے والی خاتون نے پہلی بار میڈیا کے سامنے منہ کھولتے ہوئے بی بی سی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔ اس انٹرویو کے دوران انہوں نے ان تمام پوشیدہ حقائق پر روشنی ڈالی ہے جو اس دور میں دونوں حملہ آوروں کے گرد گھومتے تھے۔ ان کے مطابق، اس وقت ان افراد کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی تھی اور ان کے کچھ ایسے روابط بھی سامنے آئے تھے جو اب تک صیغہ راز میں تھے۔ خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کے کرایہ داروں کے مبینہ طور پر ایک ایسے شخص کے ساتھ تعلقات تھے جسے سعودی جاسوس سمجھا جاتا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سانحہ نائن البی کے حوالے سے مختلف تحقیقات اور دستاویزات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں، جن میں اس نوعیت کے روابط پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خاتون کے ان بیانات نے اس واقعے کی تفتیش کو ایک نیا رخ فراہم کیا ہے اور دنیا بھر میں اس پر دوبارہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو میں خاتون نے بتایا کہ کس طرح وہ افراد عام زندگی گزار رہے تھے اور کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے بڑے واقعے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربات اور پولیس یا دیگر اداروں کے ساتھ ہونے والی تفتیش کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد ان کی اپنی زندگی بھی یکسر بدل گئی تھی اور وہ ان خوفناک یادوں سے اب تک باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس نئے انکشاف کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس بات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ نائن البی کے محرکات اور اس میں ملوث تمام کرداروں کے پس منظر کی مزید باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے انٹرویوز تاریخ کے ان تاریک گوشوں کو روشن کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جن سے عام لوگ اب تک ناواقف ہیں۔