LIVE
Loading Breaking News...

صومالی قزاقی میں اضافہ، امریکہ اور ایران تنازع کا اثر

News Image
امریکہ اور ایران کشیدگی کے منفی اثرات کے باعث صومالی بحری قزاقی میں اچانک تیزی آ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران صرف چار روز میں دو بحری جہاز اغوا کیے گئے ہیں جس سے حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
عالمی سطح پر جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے اثرات اب بحری گزرگاہوں تک بھی پہنچ چکے ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین جاری تنازع کے بعد صومالی قزاقی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس سال کے آغاز سے لے کر اب تک بحیرہ عرب اور اردگرد کے سمندری راستوں پر کم از کم تیرہ حملے ہو چکے ہیں جو بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں عسکری توجہ ہٹنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قزاقوں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ واقعات میں تیزی اس وقت دیکھی گئی جب محض چار دن کے اندر دو بڑے بحری جہازوں کو اغوا کر لیا گیا۔ ان پے در پے حملوں نے سمندری سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے موجودہ انتظامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ صومالی ساحل کے قریب بڑھتی ہوئی اس قزاقی نے جہاز رانی کی کمپنیوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے کیونکہ عملے کی حفاظت اور جہازوں کی سلامتی اب خطرے میں پڑ چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے خطے میں فوجی وسائل کی ترجیحات کو تبدیل کر دیا ہے، جس کا براہ راست فائدہ صومالی قزاق اٹھا رہے ہیں۔ بین الاقوامی بحری اتحاد اور سیکیورٹی فورسز اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی تیار کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اگر ان کارروائیوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔