Health
تناؤ پر قابو پانے کی سانس کی تکنیک - ماہرین کی رائے
ماہرین نے اس مشہور سانس لینے کی تکنیک کے سائنسی فوائد پر روشنی ڈالی ہے جو فوجی اہلکار اور انفلوئنسرز ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار گھبراہٹ کو کم کرنے اور فوری طور پر اعصابی نظام کو پرسکون کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جدید دور کی تیز رفتار زندگی میں تناؤ اور ذہنی دباؤ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے لوگ مختلف طریقے اپناتے ہیں۔ حال ہی میں ماہرین صحت نے اس طاقتور اور موثر ترین تکنیک پر روشنی ڈالی ہے جو فوجیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ سانس لینے کا یہ خاص طریقہ انسانی جسم اور دماغ کو فوری طور پر ریلیکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس پر اب سائنسی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، جب انسان شدید تناؤ یا گھبراہٹ کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سانس لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے، جو کہ اعصابی نظام پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ سانس کی اس مخصوص تکنیک کو اپنانے سے آکسیجن کی مقدار بہتر ہوتی ہے اور دل کی دھڑکن متوازن ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ اب خطرہ ٹل چکا ہے۔ یہ تکنیک پیرا سمپاتھیٹک نروس سسٹم کو متحرک کرتی ہے، جو جسم کو پرسکون کرنے کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈ میں موجود فوجی جوان یا دباؤ کا شکار افراد اس طریقے کو اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بناتے ہیں۔ اس سائنسی عمل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے لیے کسی قسم کے آلات یا طویل وقت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے کسی بھی وقت اور کہیں بھی چند منٹوں میں دہرایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے اس کی مشق کرنے سے نہ صرف وقتی ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر انسان کی قوتِ برداشت اور ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔