World
امریکہ کی ایران مخالف مہم اور دبئی کے مالیاتی اداروں پر اثرات
امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی نئی کوششوں کے تحت خلیجی ریاستوں بالخصوص دبئی کے مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس مہم کے دوران امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تعلقات کی پاداش میں ایک بڑے مصری بینک کی متحدہ عرب امارات میں موجود برانچ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری اقتصادی دباؤ اور تنہائی کی مہم کا دائرہ کار اب خلیجی ریاستوں بالخصوص دبئی کے مالیاتی مرکز تک پھیل گیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن کی کوشش ہے کہ تہران کے ساتھ مالیاتی لین دین کرنے والے تمام ممکنہ ذرائع کو بند کیا جائے تاکہ ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔ اس تازہ ترین مہم جوئی کے دوران امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اہم مصری بینک کی متحدہ عرب امارات میں واقع برانچ کو بھی اپنی کارروائی کی زد میں لے لیا ہے، جس پر ایران کے ساتھ مبینہ خفیہ تجارتی اور مالی روابط کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے کے دیگر بینکوں اور تجارتی اداروں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ دبئی طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کا تجارتی اور مالیاتی حب رہا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے اندر اس معاشی دباؤ کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کے باعث ملکی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ردعمل کے طور پر ایران کی اعلیٰ ترین قیادت نے ملک کے اندرونی پیداواری نظام کو مضبوط بنانے اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے پر زور دیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ بیرونی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کا واحد حل ملکی سطح پر خود کفالت کا حصول اور خطے کے ممالک کے ساتھ متبادل کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی خطے میں ایک نیا معاشی اور سیاسی تناؤ پیدا کر دیا ہے جہاں تجارتی مراکز امریکی دباؤ اور علاقائی اقتصادی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے خلیجی بینکنگ سیکٹر پر مزید گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اقتصادی محاذ آرائی میں بھی شدت آنے کی توقع ہے۔