World
ایران اور لبنان کے تعلقات، ایرانی وزیر خارجہ کا اہم بیان
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران لبنان کی حکومت سے عقلیت پسندی اور دانشمندی کی توقع رکھتا ہے۔ ایران اپنے پڑوسیوں اور تمام مسلم ممالک کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ تہران حکومتِ لبنان سے دانشمندی اور عقلیت پسندی کی توقع رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے تمام ممالک اور بالخصوص اپنے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی میں مسلم ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کو ہمیشہ اولین ترجیح دی گئی ہے اور موجودہ حالات میں خطے کے استحکام کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی اپنے ایک حالیہ خطاب میں ملک کے پرامن بین الاقوامی مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران عالمی برداری کے ساتھ تعمیری بات چیت پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک اور عرب ریاستوں بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعاون بڑھانے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ علاقائی مسائل کا حل باہمی گفت و شنید اور خطے کے ممالک کے بااختیار تعاون میں ہی پوشیدہ ہے۔
اس کے علاوہ، آبنائے ہرمز کے بحران کے حوالے سے تہران نے اپنا نکتہ نظر واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور غیر ملکی بینکوں میں منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی رہائی انتہائی ضروری شرائط ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے سے نہ صرف معاشی صورتحال بہتری کی طرف جائے گی بلکہ خطے میں میری ٹائم سکیورٹی اور امن کے قیام میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔
عالمی اور علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے یہ بیانات ایک نئے سفارتی دور کا غماز ہیں، جس میں پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ لبنان، خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اگر یہ سفارتی روابط مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو اس سے مجموعی طور پر پورے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی ماحول پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور معاشی تعاون کے نئے در وا ہوں گے۔