LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال واقعہ پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، سیکرٹری صحت معمعول سے فارغ

News Image
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سیکرٹری صحت کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ابتدائی انکوائری رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اس معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شدید ہنگامہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پارلیمنٹرینز نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ادارے اگر اس طرح کے سانحات کا شکار ہوں گے تو عوام کہاں جائیں گے۔ سیاسی شخصیات اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس المیے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس سنگین معاملے پر حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری صحت کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، جن پر بار بار کی نااہلی اور ہسپتالوں کے دورے کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ سیاسی رہنما مصطفیٰ کمال نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور صحت کے پورے نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ حکومتی سطح پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ غفلت کے مرتکب تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دریں اثنا، پمز ہسپتال کے واقعے سے متعلق ابتدائی انکوائری رپورٹ وزیراعظم پاکستان کو باضابطہ طور پر پیش کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور غفلت برتنے والے ذمہ دار سرکاری افسران کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزارت صحت اور ہسپتال انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اعلیٰ حکام کے خلاف بھی تادیبی کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس المناک واقعے کے بعد سول سوسائٹی، فلاحی تنظیموں اور شوبز انڈسٹری کی نامور شخصیات نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے کئی ممتاز فنکاروں اور نامور شخصیات نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پمز المیے کے ذمہ داروں کی کڑی احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا ناگزیر ہے تاکہ سرکاری ہسپتالوں کے نظام کو درست کیا جا سکے اور عام آدمی کو محفوظ ماحول میں علاج معالجے کی سہولیات مل سکیں۔