Pakistan
میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا غیر جانبدار تحقیقات کا یقین
کراچی میں میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ خاندان کو شفاف انکوائری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے شاہراہ فیصل پر احتجاج کرنے والے ایک سو کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
کراچی کے معروف کاروباری شخصیت میر رضا کے پراسرار قتل کے معاملے میں پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے مقتول کے لواحقین سے ملاقات کرکے انہیں مکمل اور غیر جانبدار انکوائری کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ میڈکو لیگل افسر سمیت اہم گواہوں اور ذمہ داروں کو طلب کر لیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات اور حتمی حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ پاکستانی عدالت کی جانب سے اس بابت ایک خصوصی جج کو کراچی کے اس تاجر کی ہلاکت کی تحقیقات اور پولیس کارروائی کا جائزہ لینے کے لیے مقرر کیا گیا تھا جو اس کیس کی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک اور پیش رفت کے مطابق کراچی پولیس نے انصاف کے حصول کے لیے احتجاج کرنے والے تقریباً ایک سو مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے شہر کی اہم ترین شاہراہ، شاہراہ فیصل کو بلاک کیا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے اور سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، تاہم دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے ارکان پرامن احتجاج کے حق اور میر رضا کو فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے جوڈیشل کمیشن کی یقین دہانی کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ انہیں اس المناک واقعے میں تاخیر کے بغیر اصل حقائق تک رسائی دی جائے گی اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس جوڈیشل انکوائری سے نہ صرف میر رضا کی موت کے اصل اسباب واضح ہوں گے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر بھی روشنی پڑے گی۔ کمیشن کی کارروائی آنے والے دنوں میں مزید تیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ گواہوں کے بیانات اور طبی رپورٹوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو چکا ہے۔