LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس کے سابق ملازم کو ٹرمپ کی تقریروں پر شرط بندی پر جرمانہ

News Image
وائٹ ہاؤس کے ایک سابق ٹیلی پرامپٹر آپریٹر کو صدر کی تقریروں کے بارے میں اندرونی معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے منافع بخش شرطیں لگانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ بہتر ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
امریکہ میں ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھے مالیاتی اسکینڈل کے دوران وائٹ ہاؤس کے ایک سابق ٹیلی پرامپٹر آپریٹر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں کے بارے میں اندرونی معلومات کا غلط استعمال کرنے پر کڑے مالیاتی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق اس سابق عملے کے رکن کو ایک لاکھ بہتتر ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ ملازم نے اپنے سرکاری عہدے اور رسائی کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق اس شخص کو صدر کی آنے والی تقریروں کے متن اور ان کے مبینہ موضوعات تک براہ راست رسائی حاصل تھی کیونکہ وہ ٹیلی پرامپٹر چلانے کے فرائض سرانجام دیتا تھا۔ اپنی اس پیشہ ورانہ حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر منافع بخش شرطیں لگائیں۔ اس غیر قانونی عمل کے ذریعے اس نے نہ صرف اپنے منصب کے اخلاقی تقاضوں کی دھجیاں اڑائیں بلکہ اندرونی معلومات کی بنیاد پر جوئے اور شرط بندی کے قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی کی۔ اس نوعیت کے واقعات وائٹ ہاؤس کے اندرونی سکیورٹی پروٹوکول اور ملازمین کی جانچ پڑتال کے نظام پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اعلیٰ ترین حکومتی دفاتر میں کام کرنے والے افراد کا اس طرح ذاتی مفاد کے لیے سرکاری معلومات کا استعمال انتہائی خطرناک اور قابلِ سزا جرم ہے۔ عدالت کی طرف سے عائد کردہ یہ جرمانہ نہ صرف اس فرد کے لیے ایک سخت سبق ہے بلکہ اس طرح کے دیگر تمام سرکاری ملازمین کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔