World
جنگ کے دوران تحفہ دینے والوں کی تلاش: دالیبور سینٹیک کی کہانی
دالیبور سینٹیک نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں کروشیا سے سویڈن ہجرت کی تھی اور اب طویل تلاش کے بعد اپنے بچپن کے محسنوں کو ڈھونڈ لیا ہے۔ انہوں نے تینتیس سال قبل جنگ کے دوران کرسمس کا تحفہ بھیجنے والے خاندان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
دالیبور سینٹیک کی زندگی میں ایک ایسا جذباتی موڑ آیا ہے جس نے تین دہائیوں پرانی یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ جب وہ صرف دس برس کے تھے، تو 1990 کی دہائی کے اوائل میں بلقان جنگ کے دوران ان کا خاندان کروشیا سے جان بچا کر سویڈن منتقل ہو گیا تھا۔ اس کٹھن دور میں جب سب کچھ اجڑ چکا تھا، ایک انجانے خاندان کی طرف سے ملنے والے کرسمس کے تحفے نے اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑا تھا جو وہ زندگی بھر نہیں بھول سکا۔
تینتیس سال گزرنے کے بعد، دالیبور سینٹیک نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ان بہن بھائیوں کی تلاش شروع کی جنہوں نے جنگ کے دنوں میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو خوشی کا پیغام بھیجا تھا۔ طویل اور مسلسل کوششوں کے بعد، ان کی یہ محنت رنگ لائی اور وہ اس خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے بچپن کے اس تاریک دور میں ان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
اس جذباتی ملاقات اور رابطے کے بعد دالیبور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچپن کے ان محسنوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بے حد پرجوش تھے۔ ان کے مطابق، یہ تحفہ صرف ایک کھلونا یا چیز نہیں بلکہ امید کی وہ کرن تھا جس نے جنگ کے صدمات برداشت کرنے والے ایک بچے کو زندگی کی طرف واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ کہانی دنیا بھر میں محبت، انسانیت اور امید کی ایک روشن مثال بن گئی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے نیکی کے کام انسانوں کے دلوں میں دہائیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہونے کے بعد صارفین بھی اس جذباتی ملاپ پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور دالیبور کی اس کوشش کو سراہا جا رہا ہے۔