LIVE
Loading Breaking News...

بھارت اور پاکستان میں ہسپتالوں کے آتش زدگی کے واقعات اور عوامی تحفظ کا بحران

News Image
حالیہ ہسپتالوں کے المناک آتش زدگی کے واقعات نے دونوں ہمسایہ ممالک میں دہائیوں کی قومی کامیابیوں کے باوجود بنیادی عوامی تحفظ کے انتہائی ناقص انتظامات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان حادثات میں شہریوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتی ترجیحات میں عام آدمی کی جان کی کوئی وقعت نہیں۔
حال ہی میں رونما ہونے والے ہسپتالوں کے ہولناک آتش زدگی کے واقعات نے دونوں ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے حکومتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کی سنگین کوتاہیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ ان المناک حادثات میں درجنوں معصوم شہریوں کے جاں بحق ہونے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، دفاعی ترقی اور دیگر شعبوں میں دہائیوں پر محیط قومی کامیابیاں اس وقت کیا معنی رکھتی ہیں جب ریاست اپنے شہریوں کو ہسپتال جیسی بنیادی جگہوں پر بھی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہو۔ صحت کے شعبے میں اس طرح کی مجرمانہ غفلت نے دونوں ممالک کے کروڑوں باسیوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں ہسپتالوں اور دیگر عوامی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔ عمارتوں کی تعمیر میں حفاظتی ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی، ایمرجنسی راستوں کا فقدان اور عملے کی تربیت نہ ہونا ایسے اسباب ہیں جو ہر بار کسی بڑے سانحے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ جب بھی کوئی ہسپتال آگ کی لپیٹ میں آتا ہے تو تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، چند روز کے لیے شور مچتا ہے اور پھر سب کچھ ویسے ہی پرانی روش پر چل نکلتا ہے، گویا شہریوں کی زندگیاں حکمرانوں کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتیں۔ دونوں خطوں میں عوام کی زندگیوں کا اس طرح ضیاع اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ عوامی فلاح و بہبود اور انسانی جان کا تحفظ کبھی بھی ترجیحی فہرست میں شامل نہیں رہا۔ اربوں روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبے تو شروع کر دیے جاتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں آکسیجن کے مناسب انتظام، آگ بجھانے کے آلات اور دیگر بنیادی حفاظتی تدابیر کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے جاتے۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب عوام علاج کی امید لے کر ہسپتال آتے ہیں مگر وہاں ناکارہ انتظامات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں روایتی سیاست اور اعلانات سے بالاتر ہو کر ہنگامی بنیادوں پر تمام ہسپتالوں کا حفاظتی آڈٹ کروائیں۔ غفلت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اگر اب بھی عوامی تحفظ کے اس بنیادی مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو دونوں ممالک کے عام شہریوں کا ریاست پر سے اعتماد ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا۔