World
خلیجی سکیورٹی ساخت: ایران جنگ کے چھ ماہ بعد خطے میں نئی دفاعی تبدیلیاں
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد خلیجی ریاستیں ایک نئی اور مضبوط سکیورٹی ساخت تشکیل دے رہی ہیں۔ یہ خلیجی شراکت داریاں امریکی دفاعی کردار کا متبادل بننے کی بجائے اس کی تکمیلی حیثییت رکھتی ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کو چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک بالکل نئی اور اہم ساخت ابھر رہی ہے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات اور سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر خلیجی ریاستیں انتہائی محتاط اور متوازن حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ خطے کے اندر امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے داخلی اور علاقائی تعاون کو مزید موثر بنانا ہے۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک اس وقت ایسے باہم مربوط اور جڑے ہوئے شراکت دارانہ نیٹ ورکس تشکیل دے رہے ہیں جو خطے میں پہلے سے موجود امریکی سکیورٹی کے کردار کو ختم کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ یہ تمام نئے معاہدے اور اشتراکی اقدامات امریکی دفاعی چھتری کا متبادل نہیں ہیں بلکہ ان کی افادیت کو مزید بڑھاتے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی جارحیت یا بحران کا فوری اور مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی سکیورٹی ساخت خلیجی ممالک کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو خود کفیل بنانا چاہتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف خلیجی خطے میں باہمی اعتماد کی فضا مضبوط ہوگی بلکہ بین الاقوامی اتحادیوں بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعاون کے نئے اور بہتر دروازے بھی کھلیں گے جو طویل مدتی امن کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
آنے والے مہینوں میں اس ابھرتی ہوئی سکیورٹی ساخت کے مزید مثبت اثرات سامنے آنے کی توقع ہے۔ خلیجی ممالک سفارتی اور دفاعی سطح پر جس طرح ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، اس سے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم ہو رہی ہے جو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔