LIVE
Loading Breaking News...

سابق صدر لینن مورینو کو پانچ سال قید کی سزا

News Image
ایکواڈور کی ایک عدالت نے سابق صدر لینن مورینو کو رشوت ستانی کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مورینو پر مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز ہونے پر مستقل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایکواڈور کی عدالت نے ملک کے سابق صدر لینن مورینو کو رشوت کے ایک سنگین مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ تہتر سالہ سابق صدر پر اپنے دورِ حکومت میں مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں جس کے بعد عدلیہ نے یہ فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالتی احکامات کے مطابق مورینو کو قید کی سزا کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کسی بھی عوامی یا سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے لیے بھی تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایکواڈور کے سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملک میں کرپشن کے خلاف جاری اقدامات کے تحت یہ ایک بڑا عدالتی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ پراسیکیوشن ٹیم نے عدالت میں ایسے شواہد پیش کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق صدر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ناجائز فوائد حاصل کیے۔ مقدمے کی سماعت طویل عرصے تک جاری رہی جس کے بعد جج نے تمام گواہوں اور ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ لینن مورینو نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم، عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی اس سزا کے بعد ان کی قانونی ٹیم کے پاس اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کرنے کے اختیارات موجود ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں سیاسی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں عوام اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس خبر کو نمایاں جگہ دی گئی ہے کیونکہ لاطینی امریکہ میں کسی بھی سابق سربراہ مملکت کے خلاف کرپشن کے الزامات پر ہونے والے یہ فیصلے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایکواڈور کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس فیصلے کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور عمل درآمد کے مراحل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ ملک میں شفافیت اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔