World
امریکی محکمہ انصاف کی چینی ہیکرز کے حملوں پر نظرثانی
امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ امریکی سینیٹ اور فیڈرل ریزرو کو ہیکرز نے نشانہ بنایا تھا تاہم یہ حملے کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس وضاحت کے بعد چینی ہیکرز کے مبینہ حملوں کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے اپنے سابقہ بیانات میں باضابطہ طور پر ترمیم کر دی ہے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ چینی ہیکرز نے اہم امریکی سرکاری اداروں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی نئی وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ امریکی سینیٹ اور فیڈرل ریزرو کو ہیکنگ کی کوششوں کا نشانہ ضرور بنایا گیا تھا، لیکن یہ سائبر حملے کسی بھی طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ متعلقہ اداروں کے سسٹمز محفوظ رہے اور کوئی بھی حساس ڈیٹا یا معلومات ہیکرز کے ہاتھ نہیں لگیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے سائبر حملے بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ کا حصہ ہیں جہاں مختلف ممالک کے درمیان ڈیجیٹل جاسوسی اور نیٹ ورک سیکیورٹی کے معاملات پر اکثر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے اہم ترین مالیاتی اور قانون ساز اداروں کی سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔ فیڈرل ریزرو اور سینیٹ کے نیٹ ورکس پر ہونے والی اس مشکوک سرگرمی کو فوری طور پر شناخت کر لیا گیا تھا جس کی وجہ سے بروقت دفاعی اقدامات ممکن ہو سکے۔
محکمہ انصاف نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کے پس منظر میں ملوث عناصر کی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ سائبر حملے کس سطح پر اور کس مقصد کے تحت کیے گئے تھے۔ اس نئی وضاحت کے بعد اب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے اور حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکی اداروں کے ڈیجیٹل اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔