Politics
امریکی جج کا ٹرمپ کی درخواست پر فیصلہ، مقدمہ وفاقی عدالت منتقل نہیں ہوگا
امریکی عدالت نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی کے مجرمانہ مقدمے کو وفاقی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست خارج کر دی ہے۔ ٹرمپ نے صدارتی استثنا کا حوالہ دیتے ہوئے اس مقدمے کو ختم کرنے یا منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی تاریخ کے ایک اہم سیاسی اور قانونی موڑ پر، ایک امریکی جج نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس قانونی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں وہ اپنے خلاف دائر ہونے والے 'خاموشی کی رقم' (hush-money) کے مجرمانہ مقدمے کو ریاستی عدالت سے ہٹا کر وفاقی عدالت میں منتقل کروانا چاہتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے قانونی ٹیم کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ صدارتی استثنا کے اصولوں کے تحت اس مقدمے کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور اسے وفاقی دائرہ اختیار میں لایا جائے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی نیویارک کی ایک عدالت میں کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی کرنے کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت کی قانونی کارروائیوں کا حصہ ہے جس میں ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ انہوں نے صدارتی انتخابات سے قبل اپنے مبینہ تعلقات کو چھپانے کے لیے غیر قانونی مالی لین دین کیا۔ ٹرمپ کے وکلاء کا مؤقف رہا ہے کہ چونکہ اب وہ دوبارہ صدر منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں صدارتی استثنا حاصل ہونا چاہیے اور اس قسم کے ریاستی مقدمات ان کے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
تاہم، حالیہ فیصلے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ مقدمہ اب بھی ریاستی عدالت کے دائرہ اختیار میں ہی رہے گا، جس سے ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے ٹرمپ کے خلاف عدالتی کارروائیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ وفاقی عدالت میں منتقلی سے انہیں قانونی جنگ لڑنے میں کچھ سہولت مل سکتی تھی۔ اب عدالت کے اس اقدام کے بعد ٹرمپ کے وکلاء کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے۔
یہ پورا قانونی معاملہ امریکی سیاسی منظر نامے پر بدستور چھایا ہوا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ برس باضابطہ طور پر صدارتی منصب سنبھالنے والے ہیں۔ اس دوران ان کے خلاف چلنے والے مختلف مجرمانہ اور دیوانی مقدمات پر ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی گہری نظریں مرکوز ہیں۔ ناقدین اور حامی دونوں ہی اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا ایک نو منتخب صدر کے خلاف اس نوعیت کے مقدمات کا انجام کیا ہوگا اور امریکی قانون نظام اس انوکھی صورتحال سے کیسے نبردآزما ہوتا ہے۔