World
کمبوڈیا کے فراڈ مراکز کے خاتمے کا دعویٰ مشکوک قرار
کمبوڈیا کی جانب سے ملک میں فراڈ کے مراکز کے خاتمے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس پر بین الاقوامی تنظیموں نے شکوک ظاہر کیے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں۔
کمبوڈیا کی حکومت کی جانب سے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ملک میں موجود تمام غیر قانونی فراڈ کے مراکز کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ تاہم، اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انڈسٹری کے ماہرین کی طرف سے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق حکومتی بیانات سے کافی مختلف ہیں اور اس نیٹ ورک کی جڑیں اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔
امینسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا میں سائبر فراڈ کے یہ مراکز دراصل ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جنہیں محض چند کارروائیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان مراکز میں کام کرنے والے افراد کو زبردستی اور انسانی اسمگلنگ کے ذریعے لایا جاتا ہے، جہاں انہیں دھوکہ دہی اور آن لائن فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومتی کارروائیاں زیادہ تر سطحی نوعیت کی رہی ہیں اور اصل سرپرست اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
دوسری جانب، انڈسٹری کے ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ کمبوڈیا میں فراڈ کمپاؤنڈز کا مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ خطے کے دوسرےممالک تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ جب تک بین الاقوامی سطح پر مشترکہ اور سخت اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، اس قسم کے جرائم کا مکمل خاتمہ ناممکن ہے۔ ماہرین نے کمبوڈیا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر شفاف تحقیقات کرے اور متاثرہ افراد کی بازیابی کے لیے مزید عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔