World
سپेन کی یورپی یونین سے سیوٹا کے تارکین وطن کے لیے مدد کی اپیل
سپेन نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیوتا کے علاقے میں پھنسے ہوئے ہزاروں تارکین وطن کی پروسیسنگ اور منتقلی میں مدد فراہم کرے۔ اس صورتحال کے باعث مقامی رہائشیوں میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
سپेन کی حکومت نے باضابطہ طور پر یورپی یونین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا میں موجود ہزاروں تارکین وطن کی ری پروسیسنگ اور منتقلی کے عمل میں ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرے۔ سیوٹا کی مقامی انتظامیہ اور حکومت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ اس چھوٹے سے علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی نے مقامی نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے دیگر ممالک کو بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے عملی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اس صورتحال نے سیوٹا کے مقامی رہائشیوں میں شدید غم و غصہ اور بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن کی موجودگی اور روزمرہ کے مسائل میں اضافے کی وجہ سے مقامی شہریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی آبادی کا بوجھ یہ چھوٹا سا انکلیو مزید برداشت نہیں کر سکتا اور وفاقی حکومت کو اس حوالے سے فوری اور پائیدار اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
یورپی یونین کے حکام اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسپینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ تارکین وطن کا یہ بحران ایک بار پھر یورپی ممالک کے درمیان سرحدی سیکیورٹی، امیگریشن پالیسیوں اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کے دیرینہ تنازعات کو سامنے لے آیا ہے۔ اسپین ماضی میں بھی تارکین وطن کی آمد کے حوالے سے یورپی یونین سے مستقل بنیادوں پر مالی اور انتظامی تعاون کا مطالبہ کرتا رہا ہے تاکہ بحیرہ روم اور افریقی سرحدوں کے راستے آنے والے افراد کے بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔