LIVE
Loading Breaking News...

چین نیپال سیلاب خبریں: ہلاکتیں 600 سے زیادہ، امدادی سرگرمیاں جاری

News Image
چین اور نیپال میں آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ نیپال نے عالمی برادری سے مالی اور تکنیکی مدد کی اپیل کی ہے۔
چین اور نیپال کے سرحدی علاقوں میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جہاں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہمالیائی سلسلے میں غیر متوقع موسمی حالات اور شدید بارشوں کے باعث آنے والے ان سیلابوں نے کئی مقامات پر تباہی مچا دی ہے، جس سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ نیپال میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں کو دوبارہ تیز کر دیا ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کے اس کٹھن مرحلے میں اربوں ڈالر کے فنڈز اور جدید تکنیکی مدد کی فوری ضرورت ہے تاکہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔ دوسری جانب، چینی علاقے تبت میں بھی سیلاب کے باعث شدید نقصانات کی اطلاعات ہیں، تاہم وہاں صورتحال اور متاثرین کے بارے میں معلومات تک رسائی محدود بتائی جاتی ہے۔ سرحدی گزرگاہوں پر چینی ریسکیو ٹیموں کو تباہی کے سوا کچھ نہیں مل رہا اور پورا علاقہ کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی حساس اور غیر متوقع ہے، اس کے باوجود حالیہ برسوں میں ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کیے گئے ہیں۔ اس المیے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پہاڑی سلسلوں میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران ماحولیاتی خطرات اور حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کرنے کے کیا خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔