LIVE
Loading Breaking News...

حینہ جاوید قتل کیس راولپنڈی عدالت ملزمان کا ریمانڈ منظور

News Image
راولپنڈی کی عدالت نے ہائی پروفائل حینہ جاوید قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں تیسری بار توسیع کر دی ہے۔ پولیس حکام نے واقعے کو خودکشی قرار دینے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا ہے۔
راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے انتہائی حساس اور ہائی پروفائل سمجھے جانے والے حینہ جاوید قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں تیسری بار توسیع کر دی ہے۔ یہ واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے، اور لواحقین سمیت سول سوسائٹی کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران تفتیشی حکام نے مزید ریمانڈ کی استدعا کی تاکہ قتل کے محرکات اور شواہد کو حتمی شکل دی جا سکے۔ دوسری جانب راولپنڈی کے پولیس سربراہ نے ابتدائی رپورٹس اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حینہ جاوید کی موت ہرگز خودکشی نہیں تھی بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا قتل ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو پہلے ہی گرفتار کر رکھا ہے، جن سے اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کو سائنسی بنیادوں پر اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جا سکے۔ مقتولہ کے اہلِ خانہ نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس سے ان کا خاندان کبھی باہر نہیں نکل سکے گا۔ مینہ جاوید کی والدہ آج بھی روزانہ اپنی بیٹی کا انتظار کرتی ہیں۔ اس دلخراش صورتحال نے معاشرے میں گھریلو تشدد اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور عوامی حلقے انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔