Pakistan
خیبر پختونخوا میں اہم تنصیبات پر ایف سی کی تعیناتی کا فیصلہ
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں پولیس امن کمیٹی کے احتجاج اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے درمیان اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کی نفری کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ احتجاج ایک پولیس اہلکار کے مبینہ اغوا اور امن کمیٹی کے رکن کی گمشدگی کے بعد شروع ہوا جو اب دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور پولیس امن کمیٹی کے جاری احتجاج کے تناظر میں اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کی تعیناتی کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ صوبے کے حساس اضلاع میں پیدا ہونے والے تناؤ اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور سرکاری و اہم تنصیبات کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے متعلقہ اداروں سے رابطے بھی تیز کر دیے ہیں۔
دوسری جانب، ایک پولیس اہلکار کے مبینہ اغوا اور امن کمیٹی کے ایک رکن کی گمشدگی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ مظاہرین نے مختلف مقامات پر دھرنے دیئے اور سڑکیں بند کیں، جس سے روزمرہ کا نظام زندگی بھی متاثر ہوا۔ اس واقعے نے صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے، بالخصوص بنوں اور ملحقہ علاقوں میں جہاں سکیورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے مابین کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
علاقے میں سکیورٹی کی تشویشناک صورتحال کے باعث عوام میں بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ دریں اثنا، انتظامیہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی فضا کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔