LIVE
Loading Breaking News...

کراچی ڈی ایچ اے جھگڑا: پولیس کی مبینہ شمولیت پر انکوائری کا حکم

News Image
کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں خواتین کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ شمولیت کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پیش آنے والے ایک پُرتشدد واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین کے درمیان ہونے والے ایک جھگڑے میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار بھی ملوث ہیں، جس نے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے اس تمام معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ ڈی ایچ اے کے ایک مصروف حصے میں پیش آیا جہاں کسی بات پر خواتین کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا اور نوبت ہاتھ پائی تک جا پہنچی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر معاملے کو سلجھانے کے بجائے فریقین میں سے کسی ایک کا ساتھ دیا یا صورتحال کو مزید بگاڑنے کا باعث بنے۔ اس سنگین نوعیت کے انکشاف کے بعد سول سوسائٹی اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے پیش نظر پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور محکمہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد تمام حقائق اکٹھے کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کی نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کرے تاکہ میرٹ پر کارروائی کی جا سکے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے واضح کیا ہے کہ اگر ویڈیو میں نظر آنے والے اہلکار کسی بھی طرح کے غیر قانونی اقدام یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔