Technology
برطانیہ میں فائیو جی نیٹ ورکس کی کارکردگی اور اے آئی کا استعمال
برطانیہ کے فائیو جی نیٹ ورکس کو ناقص کارکردگی اور سست روی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے نیٹ ورک کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
برطانیہ کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں فائیو جی نیٹ ورکس کو اس وقت شدید نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ صارفین کی توقعات کے مطابق نیٹ ورک کی کارکردگی اور رفتار مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر پا رہی ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اب نیٹ ورکس پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا سخت اسیسمنٹ اور ٹیسٹ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس خلیج کو پر کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی کی تنصیب کے بعد سے ہی صارفین اور کاروباری طبقات کو کچھ علاقوں میں سست رفتار اور سگنلز کے مسائل کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے نیٹ ورک آپریٹرز پر دبا بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے نیٹ ورک کی ٹیسٹنگ کا بنیادی مقصد ان تمام رکاوٹوں اور خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو ڈیٹا کی ترسیل میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔ اے آئی الگورتھمز اس بات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ کس وقت اور کس مقام پر ٹریفک کا دبا سب سے زیادہ ہوتا ہے، اور پھر اس کے مطابق ڈیٹا کے بہاؤ کو خودکار طریقے سے بہتر بنایا جاتا ہے۔ برطانیہ کے بڑے ٹیلی کام اداروں کا ماننا ہے کہ اگر فائیو جی نیٹ ورکس کو واقعی کامیاب بنانا ہے تو روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ترین ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، بصورت دیگر صنعتی ترقی اور صارفین کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، انڈسٹری کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیٹ ورک کی بہتری کے لیے اے آئی کا یہ اسیسمنٹ عمل طلب اور پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے میں اے آئی کو ضم کرنے کے لیے نہ صرف خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے بلکہ تکنیکی ماہرین کی ایک بڑی ٹیم بھی درکار ہے جو اس پورے عمل کی نگرانی کر سکے۔ اس کے علاوہ، سکیورٹی اور ڈیٹا کی رازداری کے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں جن سے نمٹنا ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
حالیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد برطانوی حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں نے بھی ٹیلی کام سیکٹر پر زور دیا ہے کہ وہ فائیو جی کی کارکردگی کو جلد از جلد بہتر بنائیں تاکہ ملک کی معیشت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ اے آئی مبنی اسیسمنٹ برطانوی فائیو جی نیٹ ورکس کی تقدیر بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔