LIVE
Loading Breaking News...

سو سالہ برطانوی بزرگ کی روزانہ ایک میل پیدل سیر کی عادت

News Image
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سو سالہ پیٹر بائیرز اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے روزانہ ایک میل پیدل سفر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سفر اس لیے کرتے ہیں تاکہ لوگ جانتے رہیں کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔
برطانیہ کے شہر پاکلنگٹن سے تعلق رکھنے والے ایک سو سالہ بزرگ پیٹر بائیرز نے ثابت کر دیا ہے کہ پختہ عزم اور مستقل مزاجی سے بڑھتی ہوئی عمر کو بھی مات دی جا سکتی ہے۔ پیٹر بائیرز آج بھی اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم ایک میل پیدل سفر کرتے ہیں اور شہر کے مرکز تک پیدل جاتے ہیں۔ ان کی یہ طویل عمری اور جسمانی چستی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے حیرت اور تحسین کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اپنی طویل عمری اور روزانہ کی روٹین کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیٹر بائیرز نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ وہ قصبے کے مرکز تک صرف اس لیے پیدل چل کر جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین دلایا جا سکے کہ وہ اب بھی زندہ اور متحرک ہیں۔ ان کی زندگی کا یہ معمول اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بھی کتنے بیدار اور پرامید ہیں۔ مقامی لوگ انہیں روزانہ سڑکوں پر چلتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کی اس ہمت کی تعریف کرتے ہیں۔ طبی ماہرین بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ باقاعدگی سے پیدل چلنا دل کی صحت، پٹھوں کی مضبوطی اور طویل عمری کے لیے انتہائی مفید ہے۔ پیٹر بائیرز کی یہ روٹین اس نظریے کی عملی تصویر ہے کہ جسم کو متحرک رکھ کر کئی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ورزش اور چہل قدمی کا دامن نہیں چھوڑا، جس کا صلہ آج انہیں انتہائی اچھے انداز میں مل رہا ہے۔ پیٹر بائیرز کی کہانی دنیا بھر کے ان تمام افراد کے لیے ایک بہترین پیغام ہے جو عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہی جسمانی سرگرمیاں ترک کر دیتے ہیں۔ ان کا سادہ لیکن موثر فلسفہ 'چلتے رہو' ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں آگے بڑھنے اور صحت مند رہنے کے لیے حرکت میں رہنا کتنا ضروری ہے۔ ان کے اس عزم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سو سال کی عمر میں بھی زندگی کو بھرپور طریقے سے جیا جا سکتا ہے۔