LIVE
Loading Breaking News...

ساحل اور عوامی بیت الخلا: ایسٹ بورن کی 1900ء کی تاریخی کہانی

News Image
برطانیہ کے ساحلی قصبے ایسٹ بورن کی بورو کونسل نے خواتین کے لیے پہلے عوامی بیت الخلا کی تنصیب 1900ء میں کی تھی۔ یہ تاریخی قدم اس وقت اٹھایا گیا جب شہر میں صفائی ستھرائی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے عوامی مطالبات میں شدت آئی تھی۔
تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جدید شہری سہولیات جو آج ہمیں بالکل عام اور لازمی معلوم ہوتی ہیں، ماضی میں اتنی آسانی سے میسر نہیں تھیں۔ برطانیہ کے ایک مشہور ساحلی قصبے ایسٹ بورن کی بورو کونسل کی جانب سے اٹھایا گیا ایک تاریخی قدم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خواتین کے حقوق اور بنیادی ضروریات کے لیے معاشرے کو کتنا طویل سفر طے کرنا پڑا۔ ایسٹ بورن میں خواتین کے لیے باقاعدہ طور پر پہلا عوامی بیت الخلا (پبلک ٹوائلٹ) سن 1900ء میں نصب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ساحلی علاقوں اور تفریحی مقامات پر آنے والے سیاحوں بالخصوص خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انیسویں صدی کے آخر تک پبلک مقامات پر صفائی ستھرائی اور بنیادی سہولیات کا فقدان عام تھا، جس پر سماجی حلقوں کی طرف سے مسلسل آوازیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ ایسٹ بورن کونسل کا یہ فیصلہ نہ صرف مقامی انتظامیہ کی سوچ میں تبدیلی کا عکاس تھا بلکہ یہ اس بات کا بھی اعتراف تھا کہ خواتین کی صحت اور ان کی عوامی نقل و حرکت کے لیے یہ سہولت کتنی ناگزیر ہے۔ اس وقت کے ذرائع ابلاغ اور مقامی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس سہولت کے قیام کے بعد قصبے میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ اس سے لوگوں بالخصوص خواتین کا اعتماد بحال ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس قسم کے بنیادی ڈھانچے میں مزید بہتری لائی گئی، لیکن 1900ء کا یہ سال اس لحاظ سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس نے شہری ترقی میں عوامی سہولیات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آج جب ہم دنیا بھر میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ پبلک ٹوائلٹس دیکھتے ہیں، تو ہمیں ان تاریخی فیصلوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے مستقبل کی راہ ہموار کی تھی۔ ایسٹ بورن کی یہ چھوٹی سی تاریخی حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سماجی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا عمل بتدریج آگے بڑھتا ہے اور ہر قدم کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی ہے۔