LIVE
Loading Breaking News...

کوریا کی تقسیم کا دردناک انسانی المیہ اور خاندانی جدائی کی کہانیاں

News Image
کوریا کی تقسیم نے لاکھوں خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے جہاں ایک بزرگ جنوبی کورین خاتون اپنے بھائی سے آخری بار ملنے کی منتظر ہیں۔ دوسری طرف ایک شمالی کورین ڈیفیکٹر اپنی والدہ کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہے۔
کوریا کی دہائیوں پر محیط تقسیم نے خطے کے لاکھوں خاندانوں کو ناقابل فراموش صدمات سے دوچار کیا ہے۔ سیاسی سرحدوں اور سخت فوجی پہرے کے باعث بچھڑے ہوئے اپنوں کا ملاپ اب ایک خواب بن چکا ہے۔ جنوبی کوریا کی ایک بزرگ خاتون کا قصہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو زندگی کی آخری گھڑیوں میں اپنے شمالی کوریا میں مقیم بھائی کا دیدار کرنے کے لیے ترس رہی ہیں۔ ان کا یہ انتظار وقت کے ساتھ ساتھ مزید کٹھن ہوتا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات اور خاندانی میل ملاپ کے مواقع انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ اس قسم کے دسیوں ہزار کیسز اب بھی زیر التوا ہیں جن میں بزرگ افراد اپنے بچھڑے پیاروں سے ملنے کی آرزو دل میں لیے اس دار فانی سے کوچ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس منقسم خطے میں انسانی بقا کی جدوجہد کی ایک اور دردناک تصویر شمالی کوریا کے ان ڈیفیکٹرز کی شکل میں سامنے آتی ہے جو مطلق العنان حکومت کے چنگل سے فرار ہو کر آزادی کی فضا میں سانس تو لینے لگے ہیں، مگر ان کے دل اپنے پیچھے چھوٹ جانے والے خاندان کے لیے تڑپتے ہیں۔ ایک ایسا ہی شمالی کورین ڈیفیکٹر اپنی عمر رسیدہ والدہ کو خطرناک حالات سے نکال کر محفوظ مقام پر لانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے کو تیار ہے۔ اس کا یہ عزم نہ صرف شخصی بہادری کی مثال ہے بلکہ یہ اس ظالمانہ نظام کی بھی عکاسی کرتا ہے جہاں خاندانوں کو زبردستی الگ رکھا جاتا ہے اور کسی سے رابطہ کرنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کورین امور کے ماہرین بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ خاندانی ملاپ کے عمل کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ بزرگ شہریوں کے پاس اب وقت بہت کم ہے اور اگر فوری طور پر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ تاریخی سانحہ بغیر کسی حل کے ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ اس قسم کی کہانیاں دنیا کو یاد دلاتی ہیں کہ سیاسی لکیریں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، خاندانی محبت اور اپنوں کی یادیں کبھی مٹائی نہیں جا سکتیں۔