LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کا کسان جنگ کے بعد انگور کے باغ میں واپس

News Image
تقریباً تین سال کی تباہ کن جنگ کے بعد ایک فلسطینی کسان شیخ اجلین کے مشہور انگور کے کھیتوں میں واپس آ گیا ہے۔ اس کسان نے ان انگور کی بیلوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا جن سے اسے گہرا لگاؤ تھا۔
تقریباً تین سال کی طویل اور تباہ کن جنگ کے بعد غزہ کی پٹی سے ایک دل کو چھو لینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک فلسطینی کسان اپنے پیارے انگور کے باغ میں واپس لوٹ آیا ہے۔ یہ باغ شیخ اجلین کے علاقے میں واقع ہے جو اپنے رسیلے اور اعلیٰ معیار کے انگوروں کی وجہ سے پوری دنیا میں معروف اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ جنگ کے دوران اس خطے کو شدید بمباری اور فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جس نے بڑے پیمانے پر زرعی زمینوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ اس کسان کے لیے اپنے ان باغات کو چھوڑنا انتہائی تکلیف دہ مرحلہ تھا جن کی اس نے برسوں تک اپنے بچوں کی طرح دیکھ بھال کی تھی۔ جنگ کی ہولناکیوں اور شدید خطرات کے باوجود کسان نے اپنے ان کھیتوں کو بالکل نہ چھوڑنے کا تہیہ کر رکھا تھا اور اب حالات کچھ سازگار ہوتے ہی وہ اپنے اس آبائی ورثے کی طرف واپس آ چکا ہے۔ یہ واپسی نہ صرف ایک کسان کی اپنے پیشے سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ غزہ کے عوام کی بحالی، ان کی اٹل امید اور ناقابل شکست حوصلے کی بھی عکاس ہے۔ تباہ شدہ بیلوں اور مٹی کے ڈھیروں کے درمیان اس کسان کی موجودگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ زندگی تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا راستہ بنا ہی لیتی ہے۔ مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کا زراعت اور باغبانی سے یہ گہرا رشتہ ہی اس خطے کی اصل پہچان ہے جو ہر قسم کی جنگی تباہی کے بعد بھی زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔