LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہسپتال آتشزدگی: آٹھ افسران معطل، تحقیقاتی رپورٹ پیش

News Image
اسلام آباد کے ہسپتال میں المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی روشنی میں آٹھ ذمہ دار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے کے بعد حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے آٹھ ذمہ دار افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس ہولناک حادثے میں چودہ معصوم نو مولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے جس پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد اعلیٰ حکام نے تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی عبوری رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کر دی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کے خلاف فوری طور پر معطل کرنے اور مجرمانہ کارروائی عمل میں لانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات اور چشم دید گواہوں کے مطابق جب ہسپتال کے نوزائیدہ وارڈ میں آگ لگی تو مبینہ طور پر دروازہ اندر سے بند تھا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور معصوم بچوں کو بروقت باہر نہ نکالا جا سکا۔ اس افسوسناک پہلو پر بھی تحقیقاتی کمیٹی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حفاظتی انتظامات میں اتنی سنگین کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی بھی فرد کو معاف نہیں کیا جائے گا اور اس اندوہناک واقعے کے تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر شہریوں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف معطل افسران کو سخت سزا دی جائے بلکہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کا سخت جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔