World
کییف کے قریب روسی حملہ، اسلحہ گودام تباہ ہونے سے 37 ہلاک
یوکرین کے دارالحکومت کییف کے قریب واقع اسلحہ کے ایک گودام پر روس کے فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور سیکڑوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اس تباہ کن حملے کے بعد گودام میں خوفناک دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے قریبی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
یوکرین کے دارالحکومت کییف کے قریب ایک بڑے روسی حملے کے نتیجے میں اسلحہ کے گودام کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے لگنے والی آگ اور دھماکوں سے کم از کم 37 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد علاقے میں خوفناک دھماکوں کی لہریں محسوس کی گئیں، جن کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دور دراز کے علاقوں تک اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔ حملے کی زد میں آنے والا یہ گودام یوکرین کی دفاعی تنصیبات اور رسد کے حوالے سے اہم مانا جا رہا تھا، جہاں اس واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں جنگی بنیادوں پر شروع کر دی گئی ہیں۔
حملے کے فوری بعد یوکرین کے ریسکیو اداروں اور فائر فائٹرز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھانے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل شروع کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد قریبی رہائشی علاقوں سے سیکڑوں شہریوں کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو بھی ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس المیے کے دوران دمتریوکا کمیونٹی کے سربراہ کے بھی جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جو اس حملے کی تباہ کاریوں کی سنگین عکاسی کرتا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس طویل تنازعے کے دوران سویلین اور فوجی تنصیبات پر اس طرح کے فضائی حملے روز کا معمول بن چکے ہیں، تاہم کییف کے مضافات میں ہونے والے اس حالیہ بڑے حملے کو جنگ کے تناظر میں انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ یوکرینی حکام نے ایک بار پھر بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جاری تباہی کو روکنے اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے تاکہ معصوم شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔