LIVE
Loading Breaking News...

نیپال تبت سرحد پر سیلاب اور چینی سنسرشپ کی تفصیلات

News Image
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن فلیش فلڈز کے بعد چین میں اس سانحے سے متعلق ویڈیوز اور معلومات کو سنسر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس قدرتی آفت کی زد میں آ کر ہائیڈرو پاور کے سینکڑوں کارکن اور یاتری لاپتہ ہو چکے ہیں جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر حالیہ دنوں میں آنے والے ہلاکت خیز اور تباہ کن فلیش فلڈز نے خطے میں شدید تباہی مچائی ہے، جس کے بعد اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ چینی حکام کی جانب سے اس سانحے سے متعلق ویڈیوز کو سختی سے سنسر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تبت میں آنے والے اس سیلاب کی فوٹیج چین کے اندر نشر یا دکھائی نہیں جا رہی، جس کی وجہ سے وہاں جانی و مالی نقصان کے بارے میں مصدقہ تفصیلات اور معلومات تک رسائی انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ چینی میڈیا میں اس معاملے پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے تاکہ سانحے کی اصل شدت کو چھپایا جا سکے۔ دوسری جانب، اس خوفناک آفت کے نتیجے میں نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کرنے والے سینکڑوں کارکن لاپتہ ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں لیکن دشوار گزار راستوں اور شدید نقصان کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیپال کی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے تکنیکی مدد کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کی مالی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جا سکے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں تیزی لائی جا سکے۔ اس قدرتی آفت نے خطے کے مذہبی اور سیاحتی مقامات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ہندو، بدھ، جین اور بون مذاہب کے لیے انتہائی مقدس مقام مان جانے والا کوہِ کیلاش بھی اس علاقے میں واقع ہے، جہاں سیلاب کے وقت بڑی تعداد میں زائرین اور یاتری موجود تھے جو سیلابی ریلوں کی وجہ سے پھنس گئے اور ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور بین الاقوامی امدادی ادارے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔