LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں خودکش حملوں کی تیاریاں ناکام، دو کم سن بچیاں بازیاب

News Image
بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملوں کے لیے استعمال کی جانے والی دو کم سن بچیوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے اس کامیاب کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں سکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی اہم اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو ایسی کم سن بچیوں کو بازیاب کرایا ہے جنہیں مبینہ طور پر خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ معصوم بچوں کو اس طرح کی خطرناک اور گھناؤنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا دہشت گرد تنظیموں کی مایوسی اور سفاکیت کا واضح منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ ان بچیوں کی بازیابی صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کی سمت میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ بچیاں عناصرِ شر کی گرفت میں تھیں جو انہیں ورغللا کر یا زبردستی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے درپے تھے۔ متعلقہ حکام اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اب ان بچیوں کی بحالی، تحفظ اور کونسلنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں تاکہ اس صدمے سے انہیں نکالا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ معصوم بچوں کو اس طرح کے پرتشدد مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے خلاف تمام اداروں کو مشترکہ طور پر مزید سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے صوبے میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ ایسے نیٹ ورکس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جو معصوم جانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ بچوں کے استحصال اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔