World
سندھ طاس معاہدہ: پاکستان کی عالمی اپیل اور بھارت کا مؤقف
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور دریائے سندھ کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے خطے پر گہرے اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔
اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں پاکستان نے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستانی حکام اور سفارتکاروں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور بھارت کو مجبور کرے کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی اس طرح کی خلاف ورزی خطے کے امن اور استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نتائج بہت گہرے اور تباہ کن ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ transboundary دریاؤں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں اور زراعت براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی آبی تنازعات کو حل کرنے کی ایک بنیادی دستاویز ہے اور کسی بھی ایک فریق کی جانب سے اسے معطل کرنے یا اس میں یکطرفہ تبدیلیاں لانے کی کوششیں بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ دوسری طرف، بھارت کی جانب سے اب تک اپنا مؤقف سخت رکھا گیا ہے اور وہ اپنے فیصلوں پر قائم ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پانی کا یہ تنازعہ آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیا میں سفارتی محاذ آرائی کو مزید بڑھا سکتا ہے، اور عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کرے گا تاکہ خطے میں آبی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔