Pakistan
پنجاب میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے فروغ کے لیے پاک چین تعاون
وزیر اعلیٰ پنجاب نے چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ صوبے میں گورننس کی بہتری اور غربت کے خاتمے کے لیے جدید ڈیجیٹل اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پنجاب کے ترقیاتی ڈھانچے کو جدید خط استوار پر استوار کرنا اور صوبے میں ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومتی امور میں بہتری لانا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف چینی کمپنیوں نے اپنی پیداواری صلاحیتیں اور تکنیکی مہارت پنجاب منتقل کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے جو خطے میں صنعتی اور تکنیکی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں بہتر گورننس اور ڈیجیٹل اصلاحات کی بدولت غربت کے خلاف جنگ لڑنے میں خاطر خواہ مدد مل رہی ہے۔ حکومت نے پنجاب کے پہلے مخصوص ڈیٹا سینٹر کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے سرکاری اداروں کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے اور شہریوں کو ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس ڈیٹا سینٹر کے قیام سے نہ صرف سکیورٹی کے امور بہتر ہوں گے بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی رسائی بھی عام عوام تک ممکن ہو سکے گی۔
ماہرین کے مطابق پاک چین تعاون کے یہ نئے منصوبے صوبے کی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ چین کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر ماہرین کی تیاری سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت پنجاب اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔