LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں افغان تارکین وطن کی ملک بدری: طالبان وفد کا خفیہ دورہ

News Image
طالبان حکومت کا ایک وفد جرمنی میں افغان شہریوں کی ملک بدری کے امور میں مدد کے لیے خفیہ دورے پر پہنچ گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جرمنی سے کابل واپس بھیجے جانے والے افغان تارکین وطن کے معاملات کو بہتر طریقے سے حل کرنا ہے۔
افغان طالبان حکومت کی جانب سے ایک وفد نے جرمنی کا خفیہ دورہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد جرمنی سے افغان شہریوں کی ملک بدری کے عمل میں تعاون کرنا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمنی نے کابل کے لیے افغان پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی اور دیگر مغربی ممالک اب اپنے ہاں پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے والے تارکین وطن کو واپس بھیجنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کو ہموار بنانے اور سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان حکام کے ساتھ روابط ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ ملک بدری کے عمل میں کسی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ طالبان کی طرف سے اس قسم کا تعاون دراصل بین الاقوامی سطح پر اپنے سفارتی روابط کو وسعت دینے اور کابل حکومت کے ساتھ باضابطہ میل جول کا ایک نیا راستہ کھولنے کی کوشش ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ اگرچہ خفیہ رکھا گیا تھا تاہم اس کے اثرات خطے کی سیاست اور تارکین وطن کے مستقبل پر گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔ جرمنی میں مقیم افغان برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ بہت سے پناہ گزینوں کو واپس کابل بھیجے جانے پر شدید تحفظات کا سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ جرمنی سے کتنے افغان شہریوں کو اور کس لائحہ عمل کے تحت واپس بھیجا جائے گا، جبکہ طالبان کا وفد اس سارے عمل میں جرمن حکام کو درکار معاونت فراہم کرے گا۔