LIVE
Loading Breaking News...

نوٹنگھم حملہ: متاثرہ خاندان کا مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے خلاف خط

News Image
نوٹنگھم حملے میں جاں بحق ہونے والے طالب علم کی والدہ نے تیس سے زائد متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر حکومت کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ خطرناک مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے عمل کو روکا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں پیش آنے والے ہولناک حملے کے ایک متاثرہ طالب علم کی والدہ ایما ویبر نے تیس سے زائد دیگر سوگوار خاندانوں کے ساتھ مل کر برطانوی حکومت کے نام ایک اہم اور سخت پیغام پر مبنی کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس خط کا بنیادی مقصد خطرناک مجرموں اور قاتلوں کی قبل از وقت رہائی کے موجودہ قانونی نظام پر کڑی تنقید کرنا اور اس میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا ماننا ہے کہ اگر ایسے عناصر کو اپنی سزاؤں کی تکمیل سے پہلے ہی معاشرے میں واپس چھوڑ دیا گیا تو اس سے نہ صرف عام شہریوں کی سلامتی خطرے میں پڑے گی بلکہ انصاف کے نظام پر سے عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا۔ یاد رہے کہ نوٹنگھم میں ہونے والے ان المناک حملوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جہاں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایما ویبر، جن کے بیٹے نے اس پرتشدد واقعے میں اپنی جان گنوائی تھی، اس المناک واقعے کے بعد سے ہی مسلسل انصاف کے حصول اور قوانین کو سخت بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جیسے درجنوں خاندان آج بھی اس صدمے سے باہر نہیں آ سکے ہیں، اور حکومت کی طرف سے اس قسم کے نرم رویے یا سزاؤوں میں کمی کے فیصلے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ اس کھلے خط میں دستخط کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں کے نظام اور مجرموں کی پیرول پر رہائی کے قوانین کا از سر نو جائزہ لے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزاؤں میں نرمی برتنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اور عدالتوں کے فیصلوں کی روح کے مطابق پوری سزا پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ خاندانوں نے وزیر اعظم اور متعلقہ وزراء سے فوری ملاقات کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے تحفظات براہ راست اعلیٰ حکومتی سطح تک پہنچا سکیں۔ دوسری جانب، حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ برطانوی نظامِ عدل کو اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں جیلوں میں گنجائش کی کمی کے پیش نظر بعض اوقات ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جو عوامی غصے کا باعث بنتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی حکومت ان متاثرہ خاندانوں کی اس اپیل پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے یا نہیں۔