World
ترکیہ کی جانب سے یوکرین کے سفیر کو طلب کرنے کا واقعہ
روس اور یوکرین جنگ کے دوران بحیرہ اسود میں ترک بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ترکیہ کی وزارت خارجہ نے یوکرین کے سفیر کو طلب کر کے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انقرہ: روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے اثرات اب خطے میں بحری سلامتی کے لیے بھی شدید خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ایک اہم سفارتی واقعے کے تحت ترکیہ نے یوکرین کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کر لیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب اس ہفتے بحیرہ اسود کے خطرناک زون میں ترکیہ سے تعلق رکھنے والے دو تجارتی جہازوں کو مبینہ طور پر حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد انقرہ حکومت میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور وہ خطے میں بحری تجارت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، حکام نے یوکرین کے سفیر کے سامنے اپنے سخت تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ترکیہ شروع سے ہی روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس مسلح تنازعے میں ایک منصفانہ ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس نے بحیرہ اسود کے ذریعے خوراک اور اناج کی ترسیل کے معاہدوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، دونوں ممالک کی جنگی کارروائیوں کے دوران ترک بحری جہازوں کو نقصان پہنچنا انقرہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ترکیہ کا مؤقف ہے کہ جنگ کے باوجود غیر جانبدار ممالک کے تجارتی بحری جہازوں اور عملے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور میری ٹائم سیکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، اس واقعے کے بعد بحیرہ اسود میں تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ حلقوں میں بھی شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ جہاز رانی کی کمپنیوں نے اس خطے میں اپنی نقل و حرکت پر نظرثانی کرنا شروع کر دی ہے کیونکہ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کیے جانے والے حملے اب سمندری راستوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مفادات اور بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس سفارتی طلبی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ کیف اور انقرہ کے درمیان اس معاملے پر مزید اعلیٰ سطحی رابطے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ ہونے سے روکا جا سکے۔