World
کیيف کے قریب روسی حملہ، اسلحہ ڈپو تباہ اور 38 ہلاک
یوکرین کے دارالحکومت کیيف کے قریب ایک اسلحہ ڈپو پر ہونے والے شدید روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور دجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کے بعد علاقے میں زبردست دھماکے اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے جن سے امدادی کاموں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یوکرین کے دارالحکومت کیيف کے مضافات میں واقع ایک اہم اسلحہ ڈپو پر روسی فوج نے ایک بڑا میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے۔ مقامی حکام اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس تباہ کن حملے کے بعد وہاں شدید دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور آسمان پر دھوئیں کے سیاہ بادل چھا گئے۔ اس ہولناک واقعے میں اب تک کم از کم 38 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ درجنوں افراد اس حملے کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوئے ہیں۔
حملے کے فوری بعد ریسکیو ٹیمیں، فائر فائٹرز اور سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے تاہم مسلسل ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں پیش آئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کچھ مقامی شہری اور ڈپو پر مامور عملہ بھی شامل ہے، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل تنازع کے تناظر میں عسکری تنصیبات اور اسلحہ ڈپوز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں حالیہ ہفتوں کے دوران تیزی آئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیيف کے قریب اس اہم تنصیب پر حملہ یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی اور نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔