LIVE
Loading Breaking News...

آر ایس ایس چیف کا دورہ امریکہ اور ہندو قوم پرستی کے تنازعات

News Image
مختلف کارکنوں اور تنظیموں نے آر ایس ایس کے سربراہ کے دورہ امریکہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد ہندو قوم پرستی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو چھپانا ہے۔
قومی سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ کے حالیہ دورہ امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف برادریوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دورے کو ناقدین نے ایک ایسے خیرسگالی دورے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے جس کا اصل مقصد مبینہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات پر پردہ ڈالنا ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دورے بین الاقوامی برادری اور بیرون ملک مقیم بھارتیوں کو گمراہ کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ ہندوتوا کے نظریات کو نرم روپ میں پیش کیا جا سکے۔ امریکہ میں مقیم مختلف فعال تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس دورے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو قوم پرست جماعتیں منظم طریقے سے اپنی سیاسی شناخت کو چھپانے کے لیے بیرون ملک مقیم ہندوستانی ڈائاسپورہ کے جذبات کا استعمال کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو ایک ثقافتی اور فلاحی سرگرمی کے طور پر دکھایا جاتا ہے تاکہ مغربی ممالک میں پائے جانے والے جمہوری اصولوں کے اندر جگہ بنائی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے دورے اکثر اسٹریٹجک اور سیاسی مفادات کے تحت طے پاتے ہیں جن کا مقصد بیرون ملک ہندوستانی تارکین وطن کو اپنے نظریات کے قریب کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، اس کے ردعمل میں اب سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی زیادہ متحرک ہو رہی ہیں جو اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ عالمی سطح پر انتہا پسندی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اس پورے معاملے نے ایک بار پھر بیرون ملک ہندوستانی سیاست کے اثر و رسوخ اور اس کے مضمرات پر بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کے دوروں اور ان کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے مزید تیز ہونے کا امکان ہے، جس سے عالمی سطح پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحثیں جنم لے سکتی ہیں۔