LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیلی حملے، دو افراد جاں بحق اور میڈیکل گودام تباہ

News Image
غزہ میں اسرائیلی فوج کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ حملوں کی زد میں آ کر طبی سامان کا گودام بھی تباہ ہو گیا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق بہت سے متاثرہ افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ اور شدید حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین کارروائیوں کے دوران کم از کم دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس دوران بمباری کا نشانہ بننے والے علاقوں میں شدید تباہی مچ گئی ہے اور عام رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حملوں کی زد میں ایک اہم طبی سپلائی کا گودام بھی آ گیا ہے جو مقامی ہسپتالوں کو ضروری سامان فراہم کرتا تھا۔ اس گودام کے تباہ ہونے سے پہلے ہی بحران کے شکار غزہ کے صحت کے نظام کو مزید شدید دھکا لگا ہے، جہاں ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت پہلے ہی موجود ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی اداروں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے کیونکہ ہسپتالوں کے لیے ضروری سامان کی فراہمی مزید متاثر ہو گئی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بہت سے عام شہری اور متاثرین ابھی تک تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ تاہم، ایندھن کی قلت، مشینری کی عدم دستیابی اور مسلسل سکیورٹی خطرات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ طبی عملہ اور رضا کار انتہائی کسمپرسی کے عالم میں متاثرہ افراد کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر غزہ میں جاری اس انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بمباری کا یہ سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا تو غزہ میں انسانیت کا المیہ مزید سنگین ہو جائے گا اور خوراک و دواؤں کی قلت سے مزید جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔