World
نیپال اور چین میں سیلاب سے 675 سے زائد ہلاکتیں، امدادی کارروائیاں جاری
نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 682 تک پہنچ گئی ہے جبکہ بچاؤ کی ٹیمیں اب بھی ہزاروں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس خوفناک آفت کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
نیپال اور چین کی سرحد کے قریب اس ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے شدید تودے گرنے کے بعد امدادی کارروائیاں نہایت مشکل حالات میں جاری ہیں۔ نیپال کے ڈیزاسٹر اتھارٹی کے حکام کے مطابق ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 675 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس سے مجموعی ہلاکتیں 682 ہو گئی ہیں۔ دونوں ممالک میں ریسکیو ادارے ان ہزاروں افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بدھ کے روز آنے والے اس سونامی جیسے سیلابی ریلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ اس آفت نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر چیز کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد 2,426 ہے، جن میں 517 غیر ملکی سیاح اور دریائے تریشولی پر واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کرنے والے 933 مزدور بھی شامل ہیں۔ لاپتہ افراد کی اس فہرست میں نیپالی فوج کے 45 جوان، 40 پولیس اہلکار اور 19 امیگریشن و کسٹمز افسران بھی موجود ہیں۔ دوسری طرف، بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے نیپال سے آنے والے دریاؤں سے سات لاشیں برآمد کی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ سیلاب کا شکار ہوئے لوگ ہیں، تاہم انہیں باضابطہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا۔
امریکہ کے جیولوجیکل سروے کے مطابق چین اور نیپال کی سرحد پر پیش آنے والی یہ تباہی ایک گلیشئر کے منہدم ہونے کی وجہ سے ہوئی، جس نے نچلے علاقوں میں تباہ کن پانی اور ملبے کا طوفان کھڑا کر دیا۔ زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ سب کچھ کھو چکے ہیں اور اپنے پیاروں کی تلاش میں شدید صدمے کی حالت میں انتظار کر رہے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دریا کے کنارے کی تمام بستیاں بہہ چکی ہیں اور اب وہاں کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ ترشولی کے علاقے میں فوج کے بیس کیمپ پر اپنے رشتہ داروں کی فہرست دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم لگا ہوا ہے جو کئی دنوں سے اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے منتظر ہیں۔
ادھر ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس سانحے کا صدمہ بہت بڑا ہے اور تقریباً 93,000 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چینی حکام کے مطابق اس آفت کے بعد بننے والی جھیل کا خطرہ اب کچھ کم ہو گیا ہے کیونکہ پانی کا بہاؤ بہتر ہونے سے جھیل کا رقبہ سکڑ گیا ہے۔ نیپالی اور بھارتی امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں اور تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سرنگ میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹرز اور خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جو اس طرح کے خطرناک سانحات کا سبب بن رہے ہیں۔