LIVE
Loading Breaking News...

نائجر کے دارالحکومت نیامی میں صدارتی محل پر حملے کی کوشش

News Image
نائجر کے دارالحکومت نیامی میں صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران صدارتی گارڈ اور فوج کے باغی عناصر کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر بتدریج قابو پایا جا رہا ہے اور عوام کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نائجر کے دارالحکومت نیامی میں ہفتے کے روز اس وقت شدید جھڑپیں پھوٹ پڑیں جب مسلح افواج کے بعض باغی عناصر نے صدارتی محل پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ شہر کے مختلف حصوں میں رات بھر شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد صدارتی گارڈ اور فوج کے ان عناصر کے درمیان باقاعدہ مسلح تصادم شروع ہوا۔ نائجر میں گزشتہ تین سال سے فوجی جنتا کی حکومت ہے جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گردانہ خطرات پر قابو پانے کے لیے مسلسل نبرد آزما ہے۔ ایک سکیورٹی ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ نائجر کی مسلح افواج کے بعض باغیوں کی جانب سے صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم صدارتی گارڈ نے انہیں کامیابی سے پسپا کر دیا اور محل کے اطراف میں فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ نیامی میں تعینات ایک افریقی سفارت کار کے مطابق صدر جنرل عبدالرحمن تیانی کے وفادار صدارتی گارڈز نے صورتحال کو سنبھال رکھا ہے۔ فوجی حکام نے پبلک ٹیلی ویژن پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک بیس پر فوجیوں کو یرغمال بنانے والے باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حالات پر بتدریج قابو پایا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع جنرل سلیفومیودی کے دستخط سے جاری ہونے والے اس بیان میں عام شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور اپنے روزمرہ کے امور بلا خوف و خطر انجام دیں۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ ہفتے کی صبح سویرے شروع ہوا تھا جس کے بعد فوجی حکام نے اپنے سوشل میڈیا صفحات کے ذریعے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور کسی بھی غیر مصدقہ اطلاع کو پھیلانے سے گریز کرنے کی تاکید کی۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ نیامی میں بیس 101 کے قریب دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈے اور صدارتی محل کی طرف جانے والے راستوں کو فوج نے بند کر دیا۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران قومی ٹیلی ویژن چینل ٹیلی ساحل کی نشریات بھی کچھ دیر کے لیے معطل رہیں۔ یاد رہے کہ نائجر میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی کے شدید مسائل درپیش ہیں اور اس ہوائی اڈے کو رواں سال کے دوران دہشت گرد گروہوں کی جانب سے متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ خطے میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروہ سرگرم ہیں جن کے خلاف نائجر، مالی اور برکینا فاسو کی فوجی حکومتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہی ہیں۔ موجودہ واقعے کے بعد دارالحکومت میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور حساس تنصیبات کے اردگرد بکتر بند گاڑیاں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی مزید ہنگامہ آرائی کو روکا جا سکے۔