LIVE
Loading Breaking News...

فیفا میں بحران، عملے کو ورلڈ کپ پلان پر دھوکہ دیے جانے کا انکشاف

News Image
فیفا کے سینئر ایگزیکٹو کیون لیمور نے دعویٰ کیا ہے کہ فیفا کے عملے کو صدر گیانی انفنٹینو کے ورلڈ کپ کے متنازعہ فروخت کے منصوبے کے بارے میں دھوکے میں رکھا گیا۔ اس انکشاف کے بعد فیفا کے اندرونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور عالمی فٹ بال فیڈریشن کی انتظامیہ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عالمی فٹ بال کی تنظیم فیفا (FIFA) کے اندرونی معاملات اس وقت شدید تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں جب ادارے کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) کیون لیمور نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، سینئر فیفا ایگزیکٹو کیون لیمور نے کہا ہے کہ تنظیم کے عملے کو صدر گیانی انفنٹینو کے مجوزہ ورلڈ کپ سیل آف پلان کے حوالے سے مبینہ طور پر دھوکے میں رکھا گیا۔ یہ بیان فیفا کی انتظامیہ کے اندر موجود گہرے اختلافات اور پالیسیوں پر اٹھنے والے سوالات کی غمازی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صدر گیانی انفنٹینو کی جانب سے ورلڈ کپ کے حوالے سے جو تجاویز اور منصوبے پیش کیے گئے تھے، ان پر عملے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ کیون لیمور کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیفا کے اعلیٰ ترین سطح پر فیصلوں کے طریقہ کار میں شفافیت کی کمی ہے۔ ملازمین اور ایگزیکٹوز کو ایسے اہم فیصلوں سے لاپرواہ رکھا گیا جو مستقبل میں فٹ بال کے سب سے بڑے میلے کی شکل و صورت کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ اس تازه ترین تنازعے کے بعد فیفا کے اندرونی حصوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے اور فٹ بال سے وابستہ حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے کو جلد نہ سلجھایا گیا تو یہ فیفا کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھماکہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، فیفا کی مرکزی قیادت کی طرف سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، جس سے اس تنازعے میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ جیسی بڑی عالمی سپورٹس ایونٹ کی تنظیم میں اس قسم کے اندرونی تنازعات کھیلوں کے فروغ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ فٹ بال کے شائقین اور مختلف ممالک کے فُٹ بال فیڈریشنز بھی اب اس معاملے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ دراصل اندرونی طور پر کیا کچھ چل رہا ہے اور فیصلوں میں مبینہ دھوکہ دہی کی حقیقت کیا ہے۔