Pakistan
پمز اسپتال آتشزدگی: چودہ بچوں کی ہلاکت پر آٹھ حکام معطل، وزیر اعظم کا سخت نوٹس
وزیر اعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں آٹھ ذمہ دار حکام کو معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس افسوسناک حادثے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے جس پر ملک بھر میں شدید رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے آٹھ اعلیٰ حکام کو معطل کر دیا ہے۔ اس حادثے میں چودہ معصوم نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر ملک بھر کے عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر نوٹس لیا اور تحقیقاتی کمیٹی کو جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے انکوائری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد وزیر اعظم نے فوری طور پر آٹھ ذمہ دار افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ان تمام افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ غفلت برتنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق اسپتالوں کے دورے اور حفاظتی انتظامات کا مسلسل جائزہ نہ لینے پر سیکرٹری صحت کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ انتظامی لاپرواہی کی روک تھام کی جا سکے۔
تجارت اور صنعت سے وابستہ شخصیات سمیت مختلف کاروباری طبقات نے بھی اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک قومی المیہ قرار دیا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر سمیت دیگر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور قیمتی جانوں کا تحفظ کیا جا سکے۔