World
شمالی کوریا کے آئی ٹی ورکرز اور ایٹمی پروگرام کی فنڈنگ
مغرب کے اتحادی ممالک نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا کے آئی ٹی ورکرز مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیرونی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ اس کمائی کا بڑا حصہ ملک کے متنازعہ ایٹمی اور دفاعی ہتھیاروں کے پروگرام کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مغربی اتحادی ممالک نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے انتہائی ماہر آئی ٹی ورکرز عالمی سطح پر ریموٹ جابز کے ذریعے بھاری کمائی کر رہے ہیں اور اس حاصل کردہ سخت کرنسی کو براہ راست اپنے ملک کے خطرناک ایٹمی اور میزائل پروگرام کی فنڈنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پیانگ یانگ کی حکومت نے اپنے تکنیکی ماہرین کو اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر بیرون ملک نیٹ ورکس میں تعینات کر رکھا ہے جو جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں اور اپنی شناخت بھی چھپاتے ہیں۔ بین الاقوامی سلامتی کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ورکرز بظاہر عام فری لانسرز یا تکنیکی ماہرین کے طور پر کام کرتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ شمالی کوریا کی حکومت کے مالیاتی نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے حاصل ہونے والا فنڈ ملک کے ممنوعہ دفاعی پروگراموں بالخصوص ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کی جدید کاری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے خطے اور دنیا بھر میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مغربی ممالک کے سکیورٹی حکام نے تمام متعلقہ اداروں، کارپوریشنز اور فری لانসমنگ پلیٹ فارمز پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی سکیورٹی اور ویریفیکیشن کے عمل کو مزید سخت کریں تاکہ شمالی کوریا کے اس خفیہ نیٹ ورک کو غیر قانونی ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ عالمی برادری کا ماننا ہے کہ اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے، بصورت دیگر یہ نیٹ ورک عالمی مالیاتی نظام کے لیے مزید خطرات پیدا کرتا رہے گا اور اس سے عالمی امن کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔