World
نরম্যান্ডি جنگ کے ہیرو ڈونلڈ ٹیرل 101 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
نরম্যান্ডি جنگ میں حصہ لینے والے بزرگ برطانوی فوجی ڈونلڈ ٹیرل 101 برس کی عمر میں چل بسے۔ فلاحی تنظیم نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں زبردست عقیدت اور محبت سے یاد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
برطانیہ کے سابق فوجیوں کی فلاحی تنظیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نارمنڈی کی جنگ میں حصہ لینے والے تاریخ ساز فوجی ڈونلڈ ٹیرل 101 برس کی طویل عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹیرل نے اپنی جوانی کے ایام میں جنگی خدمات انجام دینے کے لیے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا تھا تاکہ وہ بروقت فوج میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کر سکیں۔ ان کی اس جرأت مندانہ اور حب الوطنی پر مبنی سرگزشت کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ فلاحی ادارے نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹیرل کو ہمیشہ انتہائی محبت اور گہرے احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے دنیا کی مشکل ترین گھڑیوں میں فرنٹ لائن پر خدمات انجام دیں۔
نরম্যান্ডি کا معرکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج کی کامیابی میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس تاریخی آپریشن میں حصہ لینے والے چند زندہ بچ جانے والے فوجیوں میں ڈونلڈ ٹیرل کا نام بھی شامل تھا۔ انہوں نے اس آپریشن کے دوران جس بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی زندگی عزم، استقلال اور فرض شناسی کا ایک روشن باب تھی جس نے نہ صرف ان کے ساتھی فوجیوں بلکہ پوری قوم کو متاثر کیا۔
فوجی خدمات سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ڈونلڈ ٹیرل فلاحی سرگرمیوں اور بزرگ فوجیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے۔ وہ جنگی یادگاروں پر ہونے والی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے اور نوجوان نسل کو امن کی اہمیت اور قربانیوں کے پس منظر سے روشناس کراتے۔ ان کے انتقال پر پوری برطانوی برادری اور جنگی بزرگوں کی تنظیموں نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے، جبکہ ان کی یاد میں خصوصی دعائیہ تقریبات کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔