LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں کینسر کی ادویات کا خاتمہ اور طبی بحران

News Image
غزہ کے الاقصیٰ شہداء اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل اسرائیلی بمباری کے درمیان کینسر کے علاج کے لیے ادویات کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے سینکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور طبی نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔
غزہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، محصور پٹی کے اسپتالوں میں کینسر کے مریضوں کے لیے ادویات کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ الاقصیٰ شہداء اسپتال کے طبی حکام نے اس سنگین صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مسلسل جاری اسرائیلی حملوں اور ناکہ بندی کی وجہ سے ضروری ادویات کی فراہمی ناممکن ہو چکی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، اس وقت کینسر کے سیکڑوں مریض موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ادویات نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علاج جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور ادویات کی قلت پہلے ہی سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر رہی ہے۔ دوسری جانب، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور طبی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر غزہ میں فوری طور پر ادویات اور طبی سامان کی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ ادویات کی بندش سے نہ صرف کینسر کے مریض متاثر ہو رہے ہیں بلکہ دیگر سنگین امراض میں مبتلا افراد کو بھی علاج کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ مقامی طبی ماہرین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ کے بیماروں اور زخمیوں کے لیے فوری امدادی کوریڈور کھولا جا سکے اور قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔