World
امریکا نے دائیں بازو کے رہنما میلو یانپولس کو برطانیہ واپس بھیج دیا
امریکی امیگریشن حکام نے انتہائی دائیں بازو کے معروف سوشل میڈیا شخصیت میلو یانپولس کو نیو اورلینز کے ہوائی اڈے سے حراست میں لینے کے بعد برطانیہ ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس بات چیت میں اضافہ ہو گیا ہے کہ متنازع شخصیات کے حوالے سے امریکی قوانین کس طرح نافذ کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے محکمہ امیگریشن نے انتہائی دائیں بازو کے معروف اور متنازع سوشل میڈیا انفلوئنسر میلو یانپولس کو حراست میں لینے کے بعد برطانیہ ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی رواں ہفتے کے دوران نیو اورلینز کے ایک ہوائی اڈے پر عمل میں لائی گئی، جہاں امیگریشن ایجنٹس نے انہیں روکا اور بعد ازاں ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کیے۔
میلو یانپولس اپنی انتہائی دائیں بازو کی سیاست، متنازع بیانات اور سوشل میڈیا پر سخت گیر نظریات کی ترویج کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ ماضی میں وہ کئی پلیٹ فارمز پر پابندیوں کا سامنا بھی کر چکے ہیں اور ان کے بیانات کو لے کر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ نیو اورلینز ایجنسی کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ان کی ملک بدری کا عمل مکمل کیا گیا۔
برطانیہ روانگی کے اس واقعے نے بین الاقوامی میڈیا میں ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح مختلف ممالک میں امیگریشن قوانین کا اطلاق متنازع عوامی شخصیات پر کیا جاتا ہے۔ تاحال میلو یانپولس یا ان کے قانونی نمائندوں کی جانب سے اس حراست اور ملک بدری پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق ضرور کی ہے۔