LIVE
Loading Breaking News...

تیونس میں پانی کا بحران، نلکے خشک ہونے سے شہری پریشان

News Image
تیونس میں شدید گرمی، بجلی کی کٹوتی اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ شہریوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شمالی افریقی ملک تیونس میں پانی کی شدید قلت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے جہاں ملک بھر میں نلکے خشک ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔ ملک میں جاری شدید گرمی کی لہر، بجلی کی طویل کٹوتی اور پانی کے پرانے اور بوسیدہ انفراسٹرکچر نے پانی کی باقاعدہ فراہمی کے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے عوام کو روزمرہ کے استعمال اور پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے شدید جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور طویل خشک سالی کے باعث ملک کے آبی ذخائر پہلے ہی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس پر مستزاد بجلی کی بار بار بندش کی وجہ سے پمپنگ اسٹیشنز اور واٹر سپلائی نیٹ ورک کے لیے پانی کو آگے پہنچانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں کے رہائشی بھی اس سنگین صورتحال سے یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں، جہاں کئی کئی روز تک نلکے بالکل خشک رہتے ہیں۔ عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پانی کی عدم دستیابی نے ان کے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور انہیں مہنگے داموں ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کے نظام کی مرمت اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے، تو تیونس میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اس طویل مدتی مسئلے کے حل کے لیے نئی پالیسیاں بنانے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو اس اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔