LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی فلسطینی حامی طلبہ کی ملک بدری کی کوشش ناکام، عدالت کا فیصلہ

News Image
ایک وفاقی جج نے غیر ملکی طلبہ کے آزادی اظہار کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش پر ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے فلسطین کے حامی طلبہ کو بڑی قانونی کامیابی ملی ہے۔
امریکہ میں ایک وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس کے تحت فلسطینی حامی غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات بین الاقوامی اور مقامی سطح پر طلبہ کو حاصل بنیادی جمہوری اور قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ جج نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور سیاسی مؤقف اپنانے پر کسی بھی طالب علم کو ریاست کی طرف سے انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس طرز عمل پر شدید تنقید کی جس کا مقصد مبینہ طور پر طلبا کی آواز کو دبانا اور یونیورسٹی کے کیمپسز میں بنیادی انسانی حقوق کو محدود کرنا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ میں تعلیمی آزادی اور اظہار رائے کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس عدالتی حکم کے بعد ان تمام غیر ملکی طلبہ کو بڑی قانونی راحت ملی ہے جو فلسطین کے حق میں اور جاری کشیدگی کے خلاف پرامن احتجاج میں پیش پیش رہے ہیں اور جنہیں حکومتی سطح پر تارکین وطن کے قوانین کی آڑ میں نشانہ بنائے جانے کا خدشہ لاحق تھا۔ حقوق انسانی کی تنظیموں اور طلبہ یونینز نے اس فیصلے کو آئین اور قانون کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر تنوع اور بحث و مباحثے کے کلچر کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے عدالتی فیصلوں کی اشد ضرورت تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے انتظامیہ کے ان عزائم کو کاری ضرب لگی ہے جو سیاسی وجوہات کی بنا پر طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے درپے تھے۔